Online Earning
آج کل کے دور میں آن لائن ارننگ کی طرف لوگوں کا رجحان بہت ذیادہ ہو چکا ہے اور مختلف طریقوں سے پوری دنیا میں ارننگ کی جا رہی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کمپنیاں ارننگ دیتی ہیں ان میں پچاس فیصد کمپنیاں فراڈ کرتی ہیں اور کام کروا کے پیمنٹ نہیں دیتیں اسی طرح جو لوگ آن لائن کام کرتے ہیں ان میں بھی پچاس فیصد لوگ فراڈ اور بے ایمانی سے بغیر کام کیے پیمنٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
صرف پچاس فیصد کمپنیاں ارننگ دیتی ہیں ان میں بھی پچیس فیصد کمپنیاں صحیح ارننگ دیتی ہیں اور باقی پچیس فیصد کمپنیاں بہت کم ارننگ دیتی ہیں یہ دراصل چھوٹی کمپنیاں ہوتی ہیں اور بڑی کمپنیوں کے ایڈز دیکھا کر اور کلک کروا کے یوزر کو بہت کم ارننگ دے کر پیسہ کمانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتیں اور آخر کار سکیم کر کے بھاگ جاتی ہیں
جو پچیس فیصد کمپنیاں صحیح ارننگ دیتی ہیں ان کے ساتھ محنت کش اور ایماندار لوگ کام کر رہے ہوتے ہیں اور اچھا خاصا پیسہ کما رہے ہوتے ہیں
جو کمپنیاں ارننگ نہیں دیتیں یا بہت کم ارننگ دیتی ہیں ان کے ساتھ لوگ بھی وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جو انتہائی کام چور اور فراڈ سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں اسی وجہ سے وہ خود فراڈ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنا ٹائم ضائع کر کے کام چھوڑ دیتے ہیں
ہم پاکستانی لوگ بھی ایسی کمپنیوں یا ایپلیکیشن کے پیچے بھاگتے ہیں جو ہمارے لیے ایک مستقل ارننگ کا ذریعہ نہیں ہوتیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بس چند ایک کلک کر کے ہم پیسہ کما لیں تو دوستو ایسے ارننگ نہیں ہوتی بس ٹائم ضائع ہوتا ہے دوستو ہم ایسی کمپنی یا ایپلیکیشن تلاش کرنے میں اپنا بہت ذیادہ ٹائم ضائع کرتے ہیں جو کہ ہمیں فری یا بہت کم کام کر کے ارننگ دے تو دوستو ہم اس فضول کام میں جتنا ٹائم ضائع کرتے ہیں اگر ہم یہی ٹائم ایک بلاگ بنانے میں صرف کر لیں تو ہم اپنے لیے ایک مستقل ارننگ کا ذریعہ بنا سکتے ہیں
صرف پچاس فیصد کمپنیاں ارننگ دیتی ہیں ان میں بھی پچیس فیصد کمپنیاں صحیح ارننگ دیتی ہیں اور باقی پچیس فیصد کمپنیاں بہت کم ارننگ دیتی ہیں یہ دراصل چھوٹی کمپنیاں ہوتی ہیں اور بڑی کمپنیوں کے ایڈز دیکھا کر اور کلک کروا کے یوزر کو بہت کم ارننگ دے کر پیسہ کمانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتیں اور آخر کار سکیم کر کے بھاگ جاتی ہیں
جو پچیس فیصد کمپنیاں صحیح ارننگ دیتی ہیں ان کے ساتھ محنت کش اور ایماندار لوگ کام کر رہے ہوتے ہیں اور اچھا خاصا پیسہ کما رہے ہوتے ہیں
جو کمپنیاں ارننگ نہیں دیتیں یا بہت کم ارننگ دیتی ہیں ان کے ساتھ لوگ بھی وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جو انتہائی کام چور اور فراڈ سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں اسی وجہ سے وہ خود فراڈ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنا ٹائم ضائع کر کے کام چھوڑ دیتے ہیں
ہم پاکستانی لوگ بھی ایسی کمپنیوں یا ایپلیکیشن کے پیچے بھاگتے ہیں جو ہمارے لیے ایک مستقل ارننگ کا ذریعہ نہیں ہوتیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بس چند ایک کلک کر کے ہم پیسہ کما لیں تو دوستو ایسے ارننگ نہیں ہوتی بس ٹائم ضائع ہوتا ہے دوستو ہم ایسی کمپنی یا ایپلیکیشن تلاش کرنے میں اپنا بہت ذیادہ ٹائم ضائع کرتے ہیں جو کہ ہمیں فری یا بہت کم کام کر کے ارننگ دے تو دوستو ہم اس فضول کام میں جتنا ٹائم ضائع کرتے ہیں اگر ہم یہی ٹائم ایک بلاگ بنانے میں صرف کر لیں تو ہم اپنے لیے ایک مستقل ارننگ کا ذریعہ بنا سکتے ہیں
بلاگ
بلاگر گوگل کا ایک پروڈکٹ ہے جو ہمیں فری میں ویب سائیٹ یا بلاگ مہیا کرتا ہے
ہم اس بلاگ یا ویب سائیٹ پر تحریر لکھ کر فوٹو اپلوڈ کر کے ویڈیو اور میوزک ڈال کر اس پر ٹریفک لا سکتے ہیں اور اس پر کسی ایڈ نیٹ ورک کمپنی کے ایڈز لگا کر اچھی خاصی ارننگ کر سکتے ہیں
ہم روزانہ فیس بک پر وٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا پر بے شمار فوٹو پوسٹ کرتے ہیں جن کا ہمیں کچھ نہیں ملتا لیکن اگر یہی فوٹو ہم اپنے بلاگ پر اپلوڈ کریں تو یہ فوٹو ہمارے لیے ارننگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں اسی طرح ہم فلائی اپ پر سینکڑوں فوٹو اپلوڈ کرتے ہیں تو ہمیں صرف ایک ڈالر ملتا ہے اور اس کے بعد ان فوٹوز کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور ایک مہینے بعد یہ خودبخود ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں لیکن اگر یہی فوٹو ہم اپنے بلاگ پر اپلوڈ کریں تو یہ ہمیں کئی ڈالر دے سکتے ہیں اور ہمارے لیے مستعمل ارننگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں
جو لوگ بلاگ سے ارننگ کرنا جانتے ہیں ان کےلیے تو بلاگ آج کل ایک سونے کی چڑیا ہے لیکن جو لوگ نہیں جانتے ان کو بلاگ سے ارننگ کر نے میں تین بڑے مسائل کا سامنا ہوتا ہے
1 ان کے پاس بلاگ پر ڈالنے کےلیے مواد نہیں ہوتا
2 ان سے اپنے بلاگ پر ٹریفک نہیں آتا
3 وہ جس ایڈ نیٹ ورک کے ایڈز اپنے بلاگ پر لگا کر ارننگ کرتے ہیں اس ایڈ نیٹ ورک سے پاکستان میں پیمنٹ نہیں ملتی
ہم اس بلاگ یا ویب سائیٹ پر تحریر لکھ کر فوٹو اپلوڈ کر کے ویڈیو اور میوزک ڈال کر اس پر ٹریفک لا سکتے ہیں اور اس پر کسی ایڈ نیٹ ورک کمپنی کے ایڈز لگا کر اچھی خاصی ارننگ کر سکتے ہیں
ہم روزانہ فیس بک پر وٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا پر بے شمار فوٹو پوسٹ کرتے ہیں جن کا ہمیں کچھ نہیں ملتا لیکن اگر یہی فوٹو ہم اپنے بلاگ پر اپلوڈ کریں تو یہ فوٹو ہمارے لیے ارننگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں اسی طرح ہم فلائی اپ پر سینکڑوں فوٹو اپلوڈ کرتے ہیں تو ہمیں صرف ایک ڈالر ملتا ہے اور اس کے بعد ان فوٹوز کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور ایک مہینے بعد یہ خودبخود ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں لیکن اگر یہی فوٹو ہم اپنے بلاگ پر اپلوڈ کریں تو یہ ہمیں کئی ڈالر دے سکتے ہیں اور ہمارے لیے مستعمل ارننگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں
جو لوگ بلاگ سے ارننگ کرنا جانتے ہیں ان کےلیے تو بلاگ آج کل ایک سونے کی چڑیا ہے لیکن جو لوگ نہیں جانتے ان کو بلاگ سے ارننگ کر نے میں تین بڑے مسائل کا سامنا ہوتا ہے
1 ان کے پاس بلاگ پر ڈالنے کےلیے مواد نہیں ہوتا
2 ان سے اپنے بلاگ پر ٹریفک نہیں آتا
3 وہ جس ایڈ نیٹ ورک کے ایڈز اپنے بلاگ پر لگا کر ارننگ کرتے ہیں اس ایڈ نیٹ ورک سے پاکستان میں پیمنٹ نہیں ملتی